امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے سالانہ عشائیے میں مزاحیہ انداز اپنانے کی کوشش کو لیٹ نائٹ ٹی وی شوز میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر مزاحیہ پروگراموں کے میزبانوں نے صدر کی کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا، جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔ یہ تقریب روایتی طور پر صدر کو ہلکے پھلکے انداز میں خود پر اور دوسروں پر طنز کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس بار صدر ٹرمپ کی پیشکش کو کئی حلقوں میں غیر مؤثر قرار دیا گیا۔
مشہور لیٹ نائٹ شو ‘لیٹ نائٹ ود سیٹھ میئرز’ کے میزبان سیٹھ میئرز نے صدر ٹرمپ کی اس کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “اور چلیں بس یہ کہہ لیں کہ ایران واحد چیز نہیں تھی جسے انہوں نے بمب کیا”۔ میئرز کا یہ طنزیہ جملہ صدر کی مزاحیہ کوشش کی ناکامی اور ان کی پالیسیوں، خاص طور پر ایران سے متعلق، پر ایک دوہرا وار تھا۔ یہ جملہ صدر کی مزاحیہ صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی طنز کر رہا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کا عشائیہ ایک اہم سماجی اور سیاسی تقریب ہوتی ہے جہاں میڈیا اور سیاستدان ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع پر صدر کی جانب سے مزاحیہ تقریر کی توقع کی جاتی ہے تاکہ ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکے۔ تاہم، لیٹ نائٹ شوز اکثر سیاسی شخصیات کی عوامی پیشکشوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان پر طنزیہ تبصرے کرتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے صدر ٹرمپ کی مزاحیہ صلاحیتوں کو زیر بحث لایا اور ان کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جو کہ امریکی میڈیا میں ایک عام رجحان ہے۔


