انصاف کا عمل اکثر سست روی اور انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، لیکن اس کی پیش قدمی یقینی ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر، بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طاقتور افراد اور ریاستیں اپنے اقدامات کے نتائج سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، جس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر یا رکاوٹ کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کے احترام پر سوالات اٹھاتی ہے اور عالمی امن و استحکام کے لیے چیلنجز کھڑے کرتی ہے۔
ایسے حالات میں، جب کوئی رہنما یا ریاست بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بے خوفی سے کارروائی کرتا ہے، تو یہ عالمی نظام میں ایک واضح خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ خلا نہ صرف موجودہ قوانین کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے ہی اقدامات کی حوصلہ افزائی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پوتن جیسے رہنماؤں کا یہ تاثر کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی احتساب سے بالاتر ہیں، عالمی برادری کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے کہ اس خلا کو فوری طور پر پُر کیا جائے۔
تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ انصاف کی راہ میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ آئیں، یہ بالآخر اپنی منزل تک پہنچ کر رہتا ہے۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ کوئی بھی طاقتور فرد یا ریاست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے خوفی سے کارروائی نہ کر سکے۔ انصاف کی سست رفتار پیش قدمی ہی سہی، مگر اس کی حتمی فتح یقینی ہے۔ اس کے لیے عالمی اداروں کو مضبوط کرنا اور احتساب کے نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


