مغربی یورپ کو ایک شدید اور جان لیوا گرمی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث درجہ حرارت نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس غیر معمولی موسمی صورتحال نے نہ صرف روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے، جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خاص طور پر فرانس میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں شدید گرمی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 48 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ افراد ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں کا رخ کر رہے تھے، لیکن پانی کے اچانک ٹھنڈے ہونے (کولڈ شاک) یا تیز بہاؤ کی وجہ سے حادثات کا شکار ہو گئے۔ فرانسیسی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر محفوظ اور غیر مجاز مقامات پر نہانے سے گریز کریں اور پانی میں داخل ہوتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
فرانس کے علاوہ اسپین، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی سمیت مغربی یورپ کے دیگر ممالک بھی اس گرمی کی لہر کی زد میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک اور دیگر گرمی سے متعلق بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسی شدید گرمی کی لہریں اب زیادہ تواتر سے آ رہی ہیں، اور حکومتوں کو ان سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال نے صحت کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔




