دنیا بھر میں جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں پاکستان میں نقد رقم کا استعمال اب بھی غالب ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کے باوجود، نقد رقم کا راج برقرار ہے۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے کہ آخر کیا وجوہات ہیں جو پاکستان میں نقد رقم کو ‘موت’ کے منہ سے بچا رہی ہیں اور اسے ڈیجیٹل انقلاب کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہیں؟
اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، مالیاتی خواندگی اور ڈیجیٹل آگاہی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ کار سے واقف نہیں یا انہیں استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ دوسرا اہم عنصر پاکستان کی وسیع غیر رسمی معیشت ہے، جہاں لین دین کی اکثریت نقد میں ہوتی ہے تاکہ ریکارڈ سے بچا جا سکے اور ٹیکس سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل نظاموں پر اعتماد کا فقدان، سائبر سیکیورٹی کے خدشات، اور فراڈ کا خوف بھی لوگوں کو نقد رقم کے استعمال پر مجبور کرتا ہے۔ بہت سے افراد کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ ان کی ڈیجیٹل رقم محفوظ نہیں ہے یا کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی اس مسئلے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی یا سست رفتار، بجلی کی بار بار بندش، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ضروری آلات کی کمی دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل لین دین کو مشکل بنا دیتی ہے۔ مزید برآں، نقد رقم کے استعمال کی ثقافتی عادت اور ‘ہاتھ میں پیسے’ رکھنے کی نفسیاتی تسکین بھی ایک رکاوٹ ہے۔ چھوٹی رقم کے لین دین کے لیے بھی لوگ نقد کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ممکنہ فیس یا پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ ان تمام عوامل کا مجموعہ پاکستان میں نقد رقم کے استعمال کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، اور اسے ڈیجیٹل انقلاب کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہے۔





