پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے 10 جولائی کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ 10 جولائی کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم کسی بھی افغان شہری کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں ملک بدر کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے گی۔
اس کریک ڈاؤن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے حصہ لیں گے اور ملک کے تمام صوبوں میں غیر قانونی افغان شہریوں کی نشاندہی اور انہیں ملک بدر کرنے کے لیے آپریشنز کیے جائیں گے۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے اپنی سرحدی سیکیورٹی اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں۔





