کراچی میں حالیہ دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی عبوری حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے اور اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو طلب کر کے اپنا سخت موقف پیش کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ افغان سرزمین اور اس کے شہری پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور اس حوالے سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں۔ پاکستان کو افغانستان سے متصل اپنی سرحدوں پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش ہے، جہاں سے عسکریت پسند گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں عملی جامہ پہناتے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے افغان حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ خطے کا امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان کو اپنی سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔





