سندھ کے مشہور ہالیجی جھیل میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جہاں حکام نے غیر قانونی شکاریوں کے چنگل سے بازیاب کرائے گئے چار پیلیکن پرندوں کو ان کے قدرتی مسکن میں واپس چھوڑ دیا ہے۔ یہ اقدام جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ قیمتی پرندے کچھ عرصہ قبل محکمہ جنگلی حیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں غیر قانونی شکاریوں سے چھینے گئے تھے جو انہیں فروخت کرنے یا قید میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف نایاب نسلوں کے وجود کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔
ہالیجی جھیل، جو اپنی حیاتیاتی تنوع اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر جانی جاتی ہے، ایسے اقدامات کے لیے ایک مثالی مقام ہے۔ ان پیلیکنز کی رہائی نہ صرف انفرادی پرندوں کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز ہے بلکہ یہ جنگلی حیات کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات مستقبل میں مزید ایسے واقعات کی روک تھام میں معاون ثابت ہوں گے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک مثبت پیغام دیں گے۔





