وائٹ ہاؤس نے سمتھسونین میوزیم پر “شدید سیاسی سرگرمی” میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ یہ تنقید 4 جولائی کو جاری ہونے والی ایک سخت رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری امریکی بانیوں کے کردار کو کم اہمیت دے رہا ہے جبکہ سماجی انصاف کے موضوعات پر زیادہ زور دے رہا ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ میوزیم اپنی نمائشوں اور بیانیوں میں امریکہ کے بانیوں کی خدمات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، یہ سماجی انصاف، نسلی مساوات اور دیگر متنازعہ سیاسی موضوعات کو نمایاں کر رہا ہے، جس سے امریکی تاریخ کی ایک جانبدارانہ تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر جاری کی گئی، جس نے اس بحث کو مزید شدت بخشی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایک قومی ثقافتی ادارے کا اس طرح کی “انتہا پسندانہ سیاسی سرگرمی” میں ملوث ہونا اس کے بنیادی مقصد سے انحراف ہے۔ اس تنقید نے ملک میں تاریخی بیانیوں اور ثقافتی اداروں کے کردار کے حوالے سے جاری وسیع تر بحث کو ایک نئی جہت دی ہے، جہاں قدامت پسند حلقے میوزیم پر بائیں بازو کے نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔





