حالیہ وفاقی یا صوبائی بجٹ میں عام آدمی اور بالخصوص معاشی دباؤ کا شکار طبقے کے لیے کسی خاطر خواہ ریلیف کا فقدان ایک تشویشناک صورتحال پیش کرتا ہے۔ بجٹ کی پیشکش کے بعد عوام میں پائی جانے والی مایوسی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ‘سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم’ کے مصداق، وسیع تر مالیاتی منصوبوں کے باوجود نچلے طبقے کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ معاشرتی ناہمواریوں کو مزید گہرا کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، عوام کو بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ انہیں کسی نہ کسی صورت معاشی بوجھ سے نجات ملے گی۔ تاہم، بجٹ میں ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی یا بنیادی ضروریات کی اشیاء پر سبسڈی جیسے اقدامات کا نہ ہونا، ان امیدوں پر پانی پھیر گیا۔ اس سے معاشرے کا وہ طبقہ جو پہلے ہی اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، مزید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔
ماہرین اقتصادیات اور عوامی حلقوں کی جانب سے بجٹ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ صرف اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے اور اس میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بناتی اور ایسے اقدامات متعارف کراتی جو حقیقی معنوں میں انہیں معاشی استحکام فراہم کرتے۔ اس بجٹ کے نتائج طویل مدتی بنیادوں پر معاشرتی بے چینی اور معاشی عدم مساوات میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے مستقبل میں مزید سنجیدہ اور عوامی دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔




